Prof. Dr. M.A. Wajid

ہم 20 سال سے آرتھوپیڈکس میں بہترین قسم کی  خدمات مہیا کر رہے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہمارا آرتھوپیڈکس اور ٹروما میں قابلِ احترام نام ہے۔

ہماری دلچسپی کا مرکز ان اہم شعبوں میں ہے جن میں  سوراخ کلید(آرتھروسکوپک)جراحی، جوڑوں کی تبدیلی کی جراحی اور کھیلوں میں لگنے والے زخم ساتھ ہی ساتھ جسمانی زخم اور کولہے اور ران کے جوڑ کی ہڈی کی جراہی ہیں۔

ہمارا  ریومٹولوجی اور ریہیبیلیٹیشن کی خدمات سے قریبی رابطہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو لاجیکل خدمات بھی جدید ایم آر آئی کے طریقوں کے ساتھ مئیسر ہے

پیشاوارانہ رخ

پروفیسر ڈاکٹر ایم اے واجد بین الاقوامی سطح پر آرتھوپیڈک سرجن کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ  اس وقت نیشنل اسپتال اور میڈیکل سنٹر ڈی ایچ اے لاہور میں سربراہ آرتھوپیڈک  سرجن کے طور پر کام کر رہے ہیں۔  پروفیسر ڈاکٹر ایم اے واجد نےUK  سے  تربیت حاصل کی اور جرمنی اور بلجیم   سےماہرِ فلاحی تربیت ہوے۔

آپ اس وقتAO Trauma مڈل اِیسٹ  بورڈ کے چیئر مین ہیں اور AO Trauma  بین الاقوامی بورڈ سویٹزرلینڈ کے اہم رکن ہیں اورآپ نے AO Trauma  پاکستان  کی بنیاد رکھی۔

ان انتھک کوششوں کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ کے AO فاونڈیشن (دنیا کی سب سے بڑی بلا منافع چلنے والی ٹروما کی تنظیم) نے پاکستان میں اAO ا فاونڈیشن کو منظور کیا۔ اسی بنا پر 2003 سے ان کے رہنمائی میں AOTrauma کے کورسز باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں۔

آپ پاکستان کے پہلے سرجن ہیں جن کو AO فاونڈیشن کے بورڈ  آف ٹرسٹیز کا رکن بنایا گیا۔

ان کی رہنمائی میں ،  صرف  ان کا یونٹ AO فیلوشپ پاکستان میں پہچانا جاتا ہے۔   جہاں  بیرونِ ملک سے   سرجن ایڈوانس آرتھوپیڈک سرجری کے طریقہ کار کی تربیت  حاصل کرنے کے لیے اور کچھ سیکھنے کے لیے آتے ہیں۔   پروفیسر ڈاکٹر ایم اے واجد نے بہت سارے آرتھوپیڈک سرجن  کے لیے آسانیاں پیدا کیں تاکہ  وہ AO فیلوشپ حاصل کر سکیں اور بیرونِ ملک جا کر جراحی کے نئے طریقہ کار سیکھیں۔

آپ کےDepartment میں تمام قسم کے آرتھروسکوپک کے طریقے جوڑون کے  تبدیلی کی جراحی اور جسمانی چوٹوں کی جراحی کی جاتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے واجد  پاکستان کے وہ  پہلے سرجن ہیں جنہوں نے کولہے اور شانے کی آرتھروسکوپک جراحی کی۔  جس میں کندھے کو مستحکم رکھنے کی  آرتھوسکوپی شامل ہے۔  کولہے کی آرتھوسکوپی کا طریقہ بھی انہوں نے شروع کیا۔

ان کو خاص دلچسپی گھٹنے کے جوڑ کو جراحی سے سہارا دینے کی ہے۔ وہ اے سی ایل اور پی سی ایل دونو طریقے استعمال کرتے ہیں اس کو دوبارہ جوڑنے کے لیے۔  اور وہ جسم میں چھوٹی سے چھوٹی نرم ہڈی کی پیوند کاری بھی کر سکتے ہیں۔

 

جو ڈاکٹر بن رہے ہیں اور جو بن چکے ہیں ،ان کی تربیت میں پروفیسر ڈاکٹر ایم اے واجد  سرگرمِ عمل ہیں۔آپ امتحانات کے لیے پرچہ بناتے ہیں، ممتحن ہیں اور کالج آف فیزیشن اینڈ سرجنز آف پاکستان کے سپروائزر ہیں۔ آپ کو 2006 میں رائل کالج آف سرجنز کا ممتحن مقرر کیا گیا تھا۔